جیکب آباد — جیکب آباد کے علاقے گاجن پور میں پسند کی شادی کے تنازع پر ایک مشتعل ہجوم نے 100 سے زائد گھروں کو آگ لگا دی، جس سے درجنوں خاندان بے گھر اور لاکھوں کا سامان راکھ کا ڈھیر بن گیا۔
کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب سندرانی قبیلے کے ایک نوجوان نے جکھرانی قبیلے کی لڑکی سے پسند کی شادی کی۔ جوڑے کا یہ اقدام لڑکی کے خاندان اور قبیلے کے روایتی سرداروں کو قبول نہ تھا، جنہوں نے اسے اپنی ‘انا’ اور قبائلی رواج کی توہین قرار دیا۔
منگل کے روز مسلح افراد نے گاؤں پر دھاوا بول دیا اور دولہے کے خاندان سے تعلق رکھنے والے گھروں کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ عینی شاہدین کے مطابق، ہجوم کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے باعث مقامی رہائشی اپنی جان بچا کر کھیتوں کی طرف بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ دور دراز علاقہ ہونے کے باعث فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بروقت نہ پہنچ سکیں، جس سے آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
مقامی پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ پولیس کو حملے کی اطلاع پہلے ہی دی گئی تھی، تاہم نفری جائے وقوعہ پر اس وقت پہنچی جب ہجوم اپنا کام مکمل کر کے فرار ہو چکا تھا۔
ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہمیں وہاں صرف راکھ اور تباہ حال گھر ملے۔ اتنے بڑے پیمانے پر گھروں کو جلانا ایک منظم کارروائی معلوم ہوتی ہے۔”
انتظامیہ نے ضلع بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ علاقے میں رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ فریقین کے درمیان مزید تصادم کو روکا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ نے دونوں قبائل کے معتبرین کو ہنگامی مذاکرات کے لیے طلب کر لیا ہے تاکہ خونریزی کے اس سلسلے کو تھاما جا سکے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ نقصان ناقابلِ تلافی ہے۔ گھروں کے ساتھ ساتھ لوگوں نے اپنا جمع پونجی، اناج اور ضروری دستاویزات بھی کھو دی ہیں۔
صوبائی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم تو دے دیا ہے، مگر مقامی سطح پر قبائلی سرداروں کا اثر و رسوخ اکثر قانون کی گرفت کمزور کر دیتا ہے۔ جوڑا تاحال روپوش ہے اور جیکب آباد کی فضا میں تناؤ برقرار ہے، جس سے خدشہ ہے کہ یہ تنازع مزید علاقوں تک پھیل سکتا ہے۔
