اسلام آباد — پاکستان اور انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری ورچوئل مذاکرات میں ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے، جس کے تحت عالمی مالیاتی ادارے نے آئندہ مالی سال کے لیے ملکی ترقیاتی اخراجات میں نمایاں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
مستند سرکاری ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت کی اس تجویز سے اتفاق کر لیا ہے جس میں ترقیاتی بجٹ کو 1,126 ارب روپے سے بڑھا کر 1,326 ارب روپے کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس گرین سگنل کے بعد، حکومت نے مالی سال 27-2026 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے مجموعی حجم میں مزید 200 ارب روپے کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی معاشی ٹیم خسارے کے اہداف کو متاثر کیے بغیر اس اضافی رقم کے لیے ضروری فسکل اسپیس (مالیاتی گنجائش) پیدا کرنے کا ثبوت دینے میں کامیاب رہی۔ نئے نظرثانی شدہ پی ایس ڈی پی فریم ورک کے تحت صوبہ سندھ کے ترقیاتی فنڈز اور پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے اقدامات کے لیے مختص رقم میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، وفاقی بجٹ کے اسٹریٹجک خدوخال پر حکمران اتحاد اور اس کی اہم اتحادی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان بھی اہم سیاسی مذاکرات تیز ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ میں بجٹ کی باضابطہ پیشکش سے قبل پیپلز پارٹی کے تمام بنیادی مطالبات کو تسلیم کرنے اور ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
بجٹ امور پر جاری رابطوں کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں نوید قمر اور سینیٹر شیری رحمان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران احسن اقبال نے پی پی پی قیادت کو پی ایس ڈی پی کے تحت شروع کیے جانے والے نئے میگا پروجیکٹس کے بارے میں تفصیلی برریفنگ دی۔ پیپلز پارٹی کے وفد نے ترقیاتی فنڈز کی علاقائی تقسیم اور ان کے درست استعمال کے طریقہ کار پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے اتحادی قیادت کو یقین دلایا کہ ان کے تحفظات کو مکمل طور پر دور کیا جائے گا، جس کے بعد پالیسی فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے دونوں فریقین کے درمیان دوسرے دور کا اجلاس بھی طے پایا ہے۔
ان اہم معاشی اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث حکومت نے 5 جون کو وفاقی بجٹ پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب نئے مالی سال کے بجٹ کی تاریخ کو وسطِ جون تک ری شیڈول کیے جانے کا امکان ہے، جس کے لیے 10 یا 12 جون کی تاریخیں زیرِ غور ہیں، تاہم حتمی تاریخ کا ایگزیکٹو فیصلہ ابھی باقی ہے۔
بجٹ کے شیڈول میں اس تبدیلی کے ساتھ ہی، نیشنل اکنامک کونسل (این ای سی) کا اہم اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا ہے جو بدھ 3 جون کو ہونا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بجٹ شیڈول میں یہ تبدیلی گلگت بلتستان میں ہونے والے علاقائی انتخابات کی وجہ سے کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ملنے والے اس اضافی وقت میں معاشی ٹیم کو آئی ایم ایف کے ساتھ ترقیاتی بجٹ اور دیگر اہم ٹیکس اقدامات (جیسے کرپٹو کرنسی ٹرانزیکشنز پر کیپٹل گینز ٹیکس کی تجویز) پر حتمی اور تفصیلی بات چیت کا موقع بھی مل جائے گا۔
