لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق کیس میں پی ٹی آئی کی سینئر رہنما یاسمین راشد سمیت دیگر کو مجرم قرار دے دیا، جبکہ شاہ محمود قریشی کو شواہد کی عدم دستیابی پر بری کر دیا۔
جج خالد ارشد نے سرور روڈ تھانے میں درج مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے یاسمین راشد اور دیگر ملزمان کو گزشتہ برس نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں سزا سنائی۔
نو مئی کے واقعات پاکستانی سیاست اور عدالتی تاریخ کا ایک اہم موڑ سمجھے جاتے ہیں، جن میں فوجی تنصیبات اور عوامی املاک پر حملے کیے گئے۔ استغاثہ کا موقف تھا کہ ملزمان نے کارکنوں کو اکسایا اور حساس مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کی۔
پی ٹی آئی کے لیے شاہ محمود قریشی کی بریت ایک بڑی قانونی کامیابی ہے، تاہم یاسمین راشد کو سزا سنانے سے پارٹی کی پنجاب قیادت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ یاسمین راشد کئی ماہ سے جیل میں ہیں اور ان کے وکلاء مسلسل یہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی انتقام کا حصہ ہیں جس کا مقصد پارٹی کی نچلی سطح کی تنظیم کو توڑنا ہے۔
عدالت کا شاہ محمود قریشی کو بری کرنے کا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ استغاثہ پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر ان کا براہِ راست تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ دفاعی وکلاء کا کہنا تھا کہ نو مئی کے دن ہونے والی جلاؤ گھیراؤ کی کارروائیوں میں سینئر قیادت کے ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا۔
یہ فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاستی ادارے نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت سخت کارروائی پر بضد ہیں۔ صوبے بھر میں ایسے سینکڑوں مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جہاں عدلیہ ایک طرف حکومتی دباؤ اور دوسری طرف شفاف ٹرائل کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سزا پانے والے رہنما اب اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ فی الحال، عدالت کا یہ فیصلہ ان ملزمان کے سیاسی مستقبل اور پارٹی کی حکمتِ عملی پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
