جنوبی وزیرستان میں واقع گومل زیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ آٹھ سالہ طویل تعطل کے بعد اپنی مکمل پیداواری صلاحیت پر واپس آ گیا ہے۔ 17.4 میگاواٹ کا یہ بجلی گھر طویل عرصے سے تکنیکی خرابیوں اور انتظامی غفلت کا شکار تھا، جس کی بحالی سے مقامی پاور گرڈ کو ایک بڑی تقویت ملی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران یہ اسٹیشن اپنی اصل صلاحیت کے صرف ایک حصے پر کام کر رہا تھا۔ ڈیم میں مٹی اور ریت کے جمع ہونے سے ٹربائنز کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی، جس نے 160,000 ایکڑ سے زائد اراضی کو سیراب کرنے اور ہزاروں گھروں کو بجلی فراہم کرنے والے اس اہم منصوبے کو تقریباً غیر فعال بنا دیا تھا۔
مقامی انجینئرز کے مطابق، اس بحالی کے عمل میں ڈیسلٹنگ (مٹی نکالنے) کا مشکل کام اور ٹربائنز کی مرمت شامل تھی۔ یہ کام فنڈز کی کمی اور علاقے کی سیکیورٹی صورتحال کے باعث برسوں التوا کا شکار رہا۔ ٹربائنز کو دوبارہ مکمل رفتار پر چلانا محض مرمت کا کام نہیں تھا، بلکہ اس کے لیے قبائلی اضلاع کے پیچیدہ جغرافیائی اور لاجسٹک چیلنجز سے نمٹنا بھی ضروری تھا۔
یہ بحالی مقامی معیشت کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ٹانک اور کلاچی کے کسان، جو برسوں سے پانی کی نایابی اور بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کا شکار تھے، اس منصوبے سے براہِ راست مستفید ہوں گے۔ بجلی کی مستقل فراہمی کا مطلب ہے کہ مقامی ٹیوب ویل اب تسلسل سے چل سکیں گے، جس سے زراعت پر منحصر اس خطے میں فصلوں کی پیداوار بڑھنے کی توقع ہے۔
اس منصوبے پر تنقید کرنے والے اسے بیوروکریٹک سستی کی ایک بڑی مثال قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے منصوبوں کی بروقت دیکھ بھال ضروری ہوتی ہے، نہ کہ انہیں اس حد تک نظر انداز کیا جائے کہ وہ برسوں کے ہنگامی اقدامات کے محتاج ہو جائیں۔
واپڈا کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اب نئے پروٹوکولز نافذ کیے گئے ہیں تاکہ 2016 کی طرح دوبارہ مٹی جمع ہونے سے پلانٹ کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔ تاہم، ان اقدامات کا اصل امتحان اگلے مون سون سیزن میں ہوگا، جب سیلابی ریلوں کے ساتھ ملبہ ڈیم میں داخل ہوتا ہے۔
فی الحال، ٹربائنز پوری رفتار سے گھوم رہی ہیں اور گرڈ مستحکم ہے۔ جنوبی وزیرستان کے رہائشیوں کے لیے یہ ایک بڑی راحت ہے کہ طویل اندھیروں کے بعد اب ان کے گھروں میں بجلی کی مستقل فراہمی بحال ہو چکی ہے۔
