انٹارکٹیکا کی برف میں چار دہائیوں سے دبا ایک فوسل اب بالآخر ایک نایاب ’ٹائٹانوسار‘ کی ہڈی کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے۔ یہ دریافت اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کروڑوں سال قبل یہ دیوہیکل جاندار دنیا کے سرد ترین خطے تک کیسے پہنچے۔
یہ فوسل 1983 میں ویگا آئی لینڈ سے دریافت ہوا تھا۔ طویل عرصے تک یہ ہڈی لیبارٹری کے کسی کونے میں پڑی رہی، کیونکہ اس وقت کے ماہرین کے پاس اس کی درست درجہ بندی کے لیے کافی مواد موجود نہیں تھا۔ اب جدید ٹیکنالوجی اور ہڈی کی اندرونی ساخت کے تفصیلی تجزیے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ دراصل ایک ٹائٹانوسار کی ران کی ہڈی ہے۔
یہ محض ایک پرانی ہڈی نہیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹائٹانوسار اپنی جسامت کے باوجود زمین کے وسیع و عریض خطوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ کریٹیشیس دور کے اختتام پر انٹارکٹیکا آج جیسا منجمد خطہ نہیں تھا، بلکہ یہاں گھنے جنگلات اور سرسبز ماحول موجود تھا جو ان وزنی جانداروں کی خوراک کے لیے کافی تھا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹائٹانوسار تقریباً 7 کروڑ سال قبل اس خطے میں موجود تھا۔ اس دریافت سے یہ نظریہ بھی تقویت پکڑتا ہے کہ جب براعظم آپس میں جڑے ہوئے تھے، تب یہ جانور جنوبی امریکہ سے انٹارکٹیکا کے راستے نقل مکانی کرتے تھے۔
تحقیق کرنے والی ٹیم کو ہڈی کی کثافت اور اس میں موجود باریک نالیوں کے نظام کا موازنہ پیٹاگونیا میں ملنے والے دیگر ٹائٹانوسارز کے فوسلز سے کرنا پڑا۔ یہی وہ کلیدی ثبوت تھا جس نے اسے دیگر گردن دراز ڈائنوسارز سے الگ ثابت کیا۔
اگرچہ یہ فوسل مکمل نہیں، لیکن یہ ایک ایسے گمشدہ ماحولیاتی نظام کی جھلک دکھاتا ہے جہاں نباتات اتنی وافر تھیں کہ کئی ٹن وزنی جاندار آسانی سے پل سکتے تھے۔ یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے زمین کی تاریخ کے کتنے ہی راز ابھی دفن ہیں، جنہیں سامنے لانے کے لیے صرف صبر اور جدید سائنسی تحقیق درکار ہے۔
