لاہور — لاہور پولیس نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے ایک قریبی رشتہ دار کے خلاف اغوا اور اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ کارروائی دو غیر ملکی خواتین کی جانب سے لگائے گئے سنگین الزامات کے بعد عمل میں آئی، جس نے صوبائی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
متاثرہ خواتین کا الزام ہے کہ انہیں گلبرگ کے ایک نجی اجتماع سے اغوا کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق، ملزمان نے خواتین کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا اور اس دوران انہیں تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
مقدمے میں مرکزی ملزم کے طور پر ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے قریبی رشتہ دار کو نامزد کیا گیا ہے۔
گلبرگ پولیس اسٹیشن کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات ابتدائی مراحل میں ہیں اور جائے وقوعہ سے ملنے والے فرانزک شواہد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
متاثرہ خواتین کے طبی معائنے مکمل ہو چکے ہیں، جن کی حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اب اس علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اکٹھی کر رہی ہیں جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔
اس واقعے کے بعد سیاسی میدان بھی گرم ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈپٹی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔ ملزم کے کسی قانونی نمائندے نے بھی ان الزامات پر عوامی سطح پر کوئی وضاحت نہیں دی ہے۔
یہ کیس پنجاب پولیس کے لیے ایک کڑا امتحان ہے، جس پر بااثر شخصیات سے جڑے مقدمات میں جانبداری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ چونکہ معاملہ غیر ملکی شہریوں سے متعلق ہے، اس لیے پولیس پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
اب تک کسی ملزم کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ آیا پولیس نے مرکزی ملزم کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے یا نہیں۔
