ویلینشیا، اسپین — اسپین کے علاقے ویلینشیا میں جنگل میں لگی آگ نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے باعث سینکڑوں رہائشی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ شدید گرمی اور تیز ہواؤں کے باعث آگ تیزی سے پھیل رہی ہے، جس نے مقامی انتظامیہ کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
مونٹیٹشیلو قصبے میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر کم از کم 800 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ سول گارڈ کے افسران نے رات بھر گھر گھر جا کر لوگوں کو نکالنے کا کام کیا، جس کے بعد متاثرین کو قریبی علاقوں میں قائم عارضی کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا۔ خشک گھاس اور پہاڑی راستوں کے باعث آگ کی لپیٹیں تیزی سے پھیلیں، جس نے مقامی لوگوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں دیا۔
صورتحال بدستور نازک ہے۔ علاقائی حکام نے آگ بجھانے کے لیے 200 سے زائد فائر فائٹرز اور 15 طیارے تعینات کر رکھے ہیں، تاہم کم نمی اور ہوا کے جھکڑ امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ آگ کا رخ اب ساحلی علاقوں کی جانب ہے، جہاں کئی محفوظ قدرتی مقامات کو خطرہ لاحق ہے۔
ایک مقامی ایمرجنسی کوآرڈینیٹر نے بدھ کی صبح میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہوا اس وقت ہماری سب سے بڑی دشمن ہے۔ ہم اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں، لیکن حالات اتنے سازگار نہیں کہ ہم آگ کے پھیلاؤ کو فوری طور پر روک سکیں۔”
یہ واقعہ اسپین میں جنگل کی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کا شاخسانہ ہے، جہاں طویل خشک سالی نے جنگلات کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ اگرچہ یہ علاقہ گرمیوں میں آگ کے خطرات سے واقف ہے، لیکن موسم سرما کے قریب اس شدت کی آگ نے ماہرینِ ماحولیات اور مقامی حکام کو بھی حیران کر دیا ہے۔
بے گھر ہونے والے افراد کے لیے آنے والے دن غیر یقینی ہیں۔ اڈور کے ایک اسپورٹس سینٹر میں پناہ لینے والے بہت سے خاندان اب بھی اپنے گھروں کی سلامتی کے بارے میں فکرمند ہیں۔ علاقائی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آگ پر قابو پاتے ہی نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے گا، لیکن فی الحال تمام تر توجہ صرف آگ بجھانے پر مرکوز ہے۔
موسم کی پیش گوئی کے مطابق بارش کا کوئی امکان نہیں، جس کے باعث آئندہ 24 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا موجودہ حفاظتی حکمت عملی آگ کو گنجان آباد علاقوں تک پہنچنے سے روک پائے گی یا نہیں۔ علاقائی صدر آج دن میں کمانڈ سینٹر کا دورہ کریں گے تاکہ حکومتی وسائل کی فراہمی کی نگرانی کی جا سکے۔
