مقامی انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر شہر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ اس حکم نامے کے تحت نہ صرف چار سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی برقرار رہے گی بلکہ اب اگلے 30 روز کے لیے شہر کی فضاؤں میں کسی بھی قسم کے ڈرون اڑانے پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
پولیس حکام نے منگل کی رات یہ ہدایت نامہ جاری کیا، جس کا مقصد ممکنہ سیاسی سرگرمیوں اور عوامی اجتماعات سے قبل سیکیورٹی انتظامات کو سخت کرنا ہے۔ یہ پابندی کمرشل اور نجی دونوں طرح کے ڈرون آپریٹرز پر لاگو ہوگی۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں ڈرون ضبط کر لیے جائیں گے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ فیصلہ ان خفیہ اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے جن میں نشاندہی کی گئی کہ بغیر پائلٹ کے طیارے حساس سرکاری تنصیبات کی نگرانی یا عوامی نظم و ضبط کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ انتظامیہ اسے ایک احتیاطی اقدام قرار دے رہی ہے، تاہم اس سخت پابندی سے مقامی میڈیا ہاؤسز اور ایونٹ آرگنائزرز شدید مشکلات کا شکار ہیں، جن کا کام بڑی حد تک ڈرون کیمروں پر منحصر ہے۔
پولیس کے ایک ترجمان نے مختصر پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ "جب سیکیورٹی صورتحال اتنی حساس ہو تو ہم کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔” جب ان سے پوچھا گیا کہ اس 30 روزہ پابندی کی اصل وجہ کیا ہے، تو انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور صرف اتنا کہا کہ محکمہ "نگرانی کے ممکنہ خطرات کو ختم کرنے” کے لیے کوشاں ہے۔
دفعہ 144 انتظامیہ کے پاس عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کا ایک روایتی ذریعہ ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے مسلسل نفاذ سے مقامی کاروبار متاثر ہوتے ہیں اور شہری آزادیوں کا دائرہ کار محدود ہو جاتا ہے۔ اس تنقید کے باوجود حکام احتجاجی مظاہروں اور عوامی اجتماعات کو کنٹرول کرنے کے لیے اسی قانون کا سہارا لے رہے ہیں۔
اگلے ایک ماہ تک شہر کی فضاؤں میں ڈرون نظر نہیں آئیں گے۔ پولیس نے تمام تھانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حساس تنصیبات اور عوامی مقامات کی فضائی حدود کی نگرانی کریں اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائیں۔
یہ 30 روزہ پابندی سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے میں کتنی کامیاب ثابت ہوتی ہے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، مگر فی الحال شہر کی فضائی حدود تمام ڈرونز کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔
