نیشنل ٹرسٹ کی ایک سائٹ پر ’بلیک کراؤنڈ نائٹ ہیرون‘ کی موجودگی نے برطانوی پرندوں کے مشاہدہ کرنے والوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ مقامی وائلڈ لائف ماہرین نے اس کی تصدیق کی ہے۔ یہ پرندہ عام طور پر جنوبی یورپ اور افریقہ کے گرم خطوں میں پایا جاتا ہے، اس لیے برطانیہ میں اس کا نظر آنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
اس پرندے کو سب سے پہلے ایک مقامی سیاح نے شام کے وقت دیکھا۔ اس کی موٹی گردن اور بھاری جسم اسے عام ’گرے ہیرون‘ سے ممتاز کرتے ہیں۔ نام کے برعکس، یہ پرندہ دن بھر سست رہتا ہے اور صرف دھندلکے کے وقت ہی اپنی سرگرمی شروع کرتا ہے۔
نیشنل ٹرسٹ کے لیے اس غیر معمولی مہمان کی آمد، آبی پرندوں کی پناہ گاہ کے طور پر سائٹ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انتظامیہ نے مرطوب زمین کے ایک حصے کو بند کر دیا ہے تاکہ پرندے کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ انہیں خدشہ ہے کہ فوٹوگرافروں کا ہجوم اسے یہاں سے نقل مکانی پر مجبور کر سکتا ہے۔
ایک مقامی ماہرِ پرندوں کا کہنا ہے کہ "یہ دہائی میں ایک بار ہونے والا مشاہدہ ہے۔ ہجرت کے جو پیٹرنز ہم دیکھ رہے ہیں، وہ تاریخی اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ کوئی بھٹک کر آنے والا پرندہ ہے یا موسمیاتی تبدیلیوں کے دباؤ کا نتیجہ۔”
یہ پرندہ، جس کی عمر کم لگتی ہے، فی الحال جھیل کے کناروں پر خوراک تلاش کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ممکن ہے کہ بحرِ اوقیانوس کے حالیہ موسمیاتی نظام کے تحت آنے والی گرم ہواؤں کی لہر اسے شمال کی جانب لے آئی ہو۔
اگرچہ یہ پرندہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن نیشنل ٹرسٹ نے سخت تنبیہ جاری کی ہے: پرندے سے مناسب فاصلہ رکھیں۔ طویل سفر کے بعد یہ ہیرون پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ خوراک کے حصول میں ذرا سی خلل اس کی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
پرندہ تاحال وہاں موجود ہے اور سائٹ انتظامیہ ہفتے کے اختتام پر سیاحوں کے مزید رش کے لیے تیار ہے۔ چاہے یہ ایک دن رکے یا ایک ہفتہ، یہ گزشتہ کئی برسوں میں ریزرو میں آنے والا سب سے غیر متوقع مہمان بن چکا ہے۔
