جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کیے گئے آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ دہشت گردوں نے ایک سیکیورٹی پوسٹ پر حملے کی کوشش کی تھی جسے فورسز نے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب دہشت گردوں نے سیکیورٹی تنصیب میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پوسٹ پر تعینات اہلکاروں نے نقل و حرکت کو بھانپ لیا اور فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے انہیں پیش قدمی سے روک دیا۔ اس شدید فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ کارروائی خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں جاری سیکیورٹی آپریشنز کا حصہ ہے۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا، اور ان کے قبضے سے جدید اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بڑی تخریب کاری کے ارادے سے آئے تھے۔
انٹیلی جنس ذرائع کئی دنوں سے اس سیل کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ یہ گروہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران علاقے میں بھتہ خوری اور مقامی عمائدین پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔ مقامی کمانڈرز کے مطابق ان کا خاتمہ اس علاقے میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے سرحدی اضلاع میں ہائی الرٹ برقرار رکھا ہے۔ مقامی آبادی کے لیے یہ جھڑپ اس کشیدہ صورتحال کی عکاسی کرتی ہے جہاں پہاڑی علاقوں میں روٹین کی گشت اکثر اچانک مسلح تصادم میں بدل جاتی ہے۔
فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ باقی ماندہ دہشت گرد کو ختم کیا جا سکے۔ ہلاک دہشت گردوں کی لاشوں اور قبضے میں لیے گئے اسلحے کے بعد اب تفتیش کا رخ ان کے مقامی سہولت کاروں کی جانب موڑ دیا گیا ہے جنہوں نے اس حملے کے لیے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی تھی۔
