کراچی — بہادر آباد میں واقع ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز پر منگل کی رات ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کے واقعات نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ پارٹی کی تنظیمی سطح پر پیدا ہونے والے اختلافات اس قدر بڑھے کہ کارکنوں کے مابین تصادم ہوا اور علاقہ میدانِ جنگ بن گیا۔
ذرائع کے مطابق، پارٹی کی مقامی قیادت کے درمیان جاری تناؤ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک اہم اجلاس کے دوران تلخ کلامی ہوئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اجلاس میں کرسیاں چلنا شروع ہو گئیں، جس سے وہاں موجود کارکنوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ افراتفری کے عالم میں کسی نامعلوم شخص نے ہوائی فائرنگ کر دی، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ارد گرد کے رہائشی خوفزدہ ہو کر اپنے گھروں میں محصور ہو گئے۔
پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ محض ایک معمولی اختلاف نہیں بلکہ نظم و ضبط کا مکمل فقدان ہے۔ انہوں نے کہا، "اجلاس کے دوران فرنیچر توڑا گیا اور پھر اسلحہ لہرایا گیا۔ یہ تنظیم کے لیے ایک تاریک دن ہے۔”
واقعے کے فوری بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، تاہم مشتعل افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول قبضے میں لے لیے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم کرسیاں لگنے سے تین کارکن زخمی ہوئے جنہیں قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی انتشار کی ایک اور کڑی ہے۔ 2018 کے بعد سے پارٹی اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، لیکن نچلی سطح پر بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی قیادت کے لیے دردِ سر بن چکی ہے۔
بہادر آباد کے رہائشیوں کے لیے یہ منظر پرانی تلخ یادوں کو تازہ کرنے کے مترادف ہے۔ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی قیادت اپنے مشتعل کارکنوں کو سیاسی ڈسپلن کا پابند بنا سکے گی یا پھر سیاسی اختلافات کا فیصلہ اب گلیوں میں ہی ہوگا۔
