انگلینڈ کے وسیع و عریض علاقے اپنی روایتی ہریالی کھو رہے ہیں۔ یورپی خلائی ایجنسی ‘کوپرنیکس’ کی سیٹلائٹ تصاویر میں ملک کا ایک بڑا حصہ سرسبز کے بجائے جھلسی ہوئی بھوری رنگت میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ منظر نامہ برطانوی موسم گرما کی عام تصویر سے بالکل مختلف ہے۔
سب سے زیادہ تباہ کن اثرات جنوب مشرقی انگلینڈ اور مڈلینڈز کے علاقوں میں دیکھے جا رہے ہیں۔ گزشتہ 80 برسوں میں جولائی کا مہینہ خشک ترین ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث ہری بھری چراگاہیں اب سوکھی گھاس کے میدانوں میں بدل چکی ہیں۔ مٹی میں نمی کا تناسب اس قدر گر چکا ہے کہ فصلوں کی نشوونما رک گئی ہے اور کسان اپنی فصلوں کو بچانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔
پانی کی فراہمی کرنے والی کمپنیاں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ریزروائر (ذخیرہ آب) کی سطح 90 کی دہائی کے بعد اپنی نچلی ترین سطح پر آ چکی ہے۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں معمولی بارش ہوئی ہے، لیکن سخت اور بنجر زمین پانی جذب کرنے سے قاصر ہے۔ پانی زمین میں اترنے کے بجائے اوپر سے ہی بہہ جاتا ہے، جس سے زمین کی پیاس نہیں بجھتی۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق، "یہ صرف موسم کی تبدیلی نہیں، بلکہ زمین کی گہرائیوں میں نمی کی شدید کمی کا اشارہ ہے۔”
برطانوی حکومت کے ‘نیشنل ڈراٹ گروپ’ نے کئی علاقوں کو باضابطہ طور پر خشک سالی کا شکار قرار دے دیا ہے۔ یہ اعلان محض ایک لیبل نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہنگامی پروٹوکول نافذ کر دیے گئے ہیں۔ اب پانی کی ترجیحی فراہمی انسانی ضروریات کے لیے مختص ہے، جبکہ لان میں پانی دینے یا گاڑی دھونے پر پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں۔
کسانوں کے لیے صورتحال زیادہ سنگین ہے۔ موسمِ سرما کی فصلوں، جیسے گندم اور جو کی کاشت کا وقت قریب ہے، لیکن زمین کنکریٹ کی طرح سخت ہو چکی ہے۔ اگر زمین جلد نرم نہ ہوئی تو فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی آئے گی، جس کا براہِ راست اثر سردیوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑے گا۔
یہ خشک سالی اب صرف باغبانی کرنے والوں یا پانی بچانے والوں کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ برطانوی انفراسٹرکچر کی برداشت کی حدوں کو چیلنج کر رہی ہے۔ کیا انگلینڈ کا موجودہ آبی نظام ایسی ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے جہاں ہریالی کا ختم ہونا معمول بنتا جا رہا ہے؟ اس کا جواب آنے والے ہفتوں میں مل جائے گا۔
