سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جو خواتین اپنے قانونی حقوق کا استعمال کر رہی ہیں، انہیں تشدد کا نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بنچ نے ریمارکس دیے کہ "روایات” یا "سماجی اقدار” کے نام پر خواتین کو تحفظ سے محروم رکھنا آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ ریمارکس دیہی علاقوں میں خواتین کو ہراساں کرنے اور ان پر جسمانی تشدد کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔ چیف جسٹس نے خاص طور پر مقامی انتظامیہ کی خاموشی پر سوال اٹھایا کہ جب خواتین اپنے بنیادی حقوق—جیسے جائیداد میں حصہ، پسند کی شادی یا نقل و حرکت کی آزادی—کا استعمال کرتی ہیں تو پولیس کارروائی کرنے کے بجائے تماشائی کیوں بن جاتی ہے؟
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ "قانون مرد اور عورت کے حقوق میں کوئی فرق نہیں کرتا۔” انہوں نے صوبائی لاء افسران سے استفسار کیا کہ آخر کن دباؤ کے تحت تھانوں میں بااثر افراد یا مقامی عمائدین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی جاتی ہے۔
برسوں سے رائج جرگہ سسٹم اور مقامی طاقتور حلقے متوازی عدالتوں کے طور پر کام کر رہے ہیں، جہاں اکثر متاثرہ خواتین کو انصاف تک پہنچنے سے پہلے ہی خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس نظام کو چیلنج کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر کوئی خاتون قانون کے مطابق اپنا حق استعمال کر رہی ہے تو اس کے خلاف تشدد ایک مجرمانہ فعل ہے، نہ کہ کوئی نجی معاملہ۔
عدالت نے صوبائی آئی جیز کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سیاسی یا کسی بھی قسم کے دباؤ کے بغیر خواتین پر تشدد کے مقدمات درج ہوں۔ عدالت نے تنبیہ کی کہ اگر کوئی پولیس افسر ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے یا مقدمہ درج نہ کرنے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
تجزیہ کار طویل عرصے سے یہ تنقید کرتے رہے ہیں کہ کاغذوں پر موجود قوانین زمینی حقائق میں ناکام ہیں۔ سپریم کورٹ نے اب زندگی اور آزادی کے حق کو براہِ راست ریاست کی ذمہ داری سے جوڑ کر پولیس کے روایتی رویے کو تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
عدالت کا یہ موقف نچلی عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے: تشدد کے واقعات میں "صلح صفائی” یا "سماجی مصالحت” کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اب قانون ہی واحد حتمی راستہ ہے، اور ریاست—بطور حقوق کی ضامن—اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے جوابدہ ہے۔
