اسکاٹ لینڈ کی ہائلینڈ کونسل نے خطے کے تاریک آسمانوں کو روشنی کے آلودگی سے بچانے کے لیے نئی منصوبہ بندی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد دیہی علاقوں میں تعمیرات کے دوران مصنوعی روشنی کے بے جا استعمال کو محدود کرنا ہے۔
نئی تجاویز کے تحت، ڈویلپرز کو اب اپنے تعمیراتی منصوبوں میں بیرونی روشنیوں کی شدت، سمت اور وقت کا جواز پیش کرنا ہوگا۔ کونسل کی جانب سے یہ کوشش ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ہائلینڈز میں رہائشی منصوبوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جس سے مقامی ماحولیات اور فلکیاتی نظاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ مصنوعی روشنیوں کی بہتات نہ صرف رات کے وقت متحرک جانوروں اور پرندوں کی قدرتی زندگی کو متاثر کرتی ہے، بلکہ یہ ان تاریک مقامات کی انفرادیت کو بھی ختم کر رہی ہے جو اپنی شفاف راتوں اور ستاروں کے نظارے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔
نئی ہدایات میں ‘مناسب روشنی’ پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں ایسی لائٹس کے استعمال کی تجویز دی گئی ہے جو نیچے کی طرف روشنی ڈالیں، موشن سینسرز کا استعمال تاکہ غیر ضروری وقت میں لائٹس بند رہیں، اور ایسی روشنیوں کا انتخاب جو ماحول کے لیے کم نقصان دہ ہوں۔
ایک مقامی تاریک آسمان ایڈوکیسی گروپ کے ترجمان نے کہا، "ہم ہائلینڈز کو اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہتے، ہم اسے صرف سمارٹ بنانا چاہتے ہیں۔ آج کل نظر آنے والی زیادہ تر روشنی ضائع ہوتی ہے جو زمین کو روشن کرنے کے بجائے آسمان کی طرف بکھر جاتی ہے۔”
یہ پالیسی برطانیہ کے ان علاقوں کی پیروی ہے جہاں ‘ڈارک سکائی پارکس’ کے قیام سے فلکیاتی سیاحت کو فروغ ملا ہے۔ ہائلینڈ کونسل کی جانب سے ان ضوابط کو منصوبہ بندی کا حصہ بنانے کا مقصد یہ ہے کہ پھیلتی ہوئی تعمیرات سے قبل ہی رات کے قدرتی منظر کو محفوظ بنایا جائے۔
یہ مسودہ اب عوامی مشاورت کے لیے پیش کیا جائے گا۔ تاہم، ڈویلپرز کی جانب سے ان پابندیوں پر تحفظات سامنے آنے کا امکان ہے، کیونکہ ان کے نزدیک سخت لائٹنگ ضوابط سے تعمیراتی اخراجات میں اضافہ اور حفاظتی معیارات کی تعمیل میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
آنے والے دنوں میں کونسل کا حتمی فیصلہ یہ طے کرے گا کہ آیا ہائلینڈز ذمہ دارانہ دیہی ترقی کا نمونہ بنے گا یا پھر جدید انفراسٹرکچر کی چکاچوند اس خطے کی قدرتی راتوں کو ہمیشہ کے لیے گہنا دے گی۔
