بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تکنیکی بالادستی کی جنگ اب سیمی کنڈکٹرز اور سافٹ ویئر سے نکل کر فیکٹریوں کے فرش تک پہنچ چکی ہے۔ دونوں عالمی طاقتیں اب ایسے ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹس تیار کرنے میں مصروف ہیں جو انسانی مزدوروں کی جگہ لے سکیں اور صنعتی پیداوار میں انقلاب لا سکیں۔
امریکہ بلاشبہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر میں آگے ہے، لیکن چین نے ہارڈویئر مینوفیکچرنگ میں اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ چینی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے 2025 تک ہیومنائیڈ روبوٹس کی بڑے پیمانے پر پیداوار کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ محض ایک اعلان نہیں، بلکہ ریاستی سبسڈی اور مضبوط سپلائی چین کی مدد سے چلنے والا ایک باقاعدہ منصوبہ ہے۔
دوسری جانب، ٹیسلا کا ‘آپٹیمس’ پراجیکٹ امریکی کوششوں کا مرکز ہے۔ ایلون مسک کا دعویٰ ہے کہ یہ روبوٹس ٹیسلا کے کارخانوں میں کام کی رفتار اور معیار کو بدل دیں گے۔ امریکی حکمت عملی سادہ ہے: پہلے اپنی فیکٹریوں میں روبوٹ کو ٹیسٹ کریں، پھر اسے عالمی منڈی میں اتاریں۔
لیکن چین یہاں قیمت اور رفتار کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ‘فوریئر انٹیلیجنس’ اور ‘یونی ٹری روبوٹکس’ جیسے چینی ادارے پہلے ہی اپنے روبوٹس بین الاقوامی لیبارٹریوں کو فراہم کر رہے ہیں۔ ان کی قیمت امریکی کمپنیوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ چین اپنے الیکٹرانکس اور بیٹری مینوفیکچرنگ کے وسیع نیٹ ورک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی کمپنیوں کی نسبت زیادہ تیزی سے ڈیزائن میں تبدیلیاں لا رہا ہے۔
یہ مقابلہ صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں؛ یہ "ایمبوڈڈ اے آئی” کی جنگ ہے۔ جو ملک پہلے ان مشینوں کو انسانی ماحول میں چلنے اور کام کرنے کے قابل بنا لے گا، وہی مستقبل کی صنعتی دنیا کا نقشہ تیار کرے گا۔
روبوٹکس کی ماہر سارہ چن کہتی ہیں، "ہم دیکھ رہے ہیں کہ روبوٹس اب طے شدہ راستوں سے نکل کر پیچیدہ انسانی ماحول میں کام کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔ جو ملک بیٹری کی لائف اور حرکات میں مہارت کے مسائل پہلے حل کر لے گا، وہی اگلی صنعتی انقلاب کا فاتح ہوگا۔”
واشنگٹن نے اس پیشرفت کو روکنے کے لیے پرانا ہتھکنڈا اپنایا ہے: برآمدی پابندیاں۔ امریکہ نے ان روبوٹس کے لیے ضروری حساس سینسرز اور ایکچویٹرز کی برآمد پر کنٹرول سخت کر دیا ہے، تاکہ چینی ٹیکنالوجی کی رفتار کو سست کیا جا سکے۔ جواب میں، بیجنگ نے اپنے مقامی پرزہ جات کی تیاری پر توجہ مرکوز کر دی ہے تاکہ کسی بھی بیرونی پابندی سے بچا جا سکے۔
اب یہ دو الگ الگ ماحولیاتی نظام ایک ہی منزل کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ آیا یہ روبوٹس ورک فورس کا حصہ بنیں گے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ مستقبل کے یہ روبوٹس ٹیکساس میں بنیں گے یا شنگھائی میں۔ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ جو پہلے سستا اور قابلِ اعتماد روبوٹ بڑے پیمانے پر تیار کر لے گا، اگلی صدی کی صنعت اسی کے قبضے میں ہوگی۔
