اسلام آباد — وزارتِ قومی صحت نے وفاقی دارالحکومت کے طبی ضابطہ کار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ‘اسلام آباد ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی’ (IHRA) آرڈیننس متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت نے اس مجوزہ آرڈیننس پر کام شروع کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ قانون سازی کا جامع جائزہ لے کر آئی ایچ آر اے ایکٹ میں ترامیم کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ یہ پیش رفت وزارتِ صحت اور آئی ایچ آر اے بورڈ کے درمیان چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی تقرری پر مبینہ اختلافات کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جہاں بورڈ نے وزارت کی جانب سے توسیع کے باوجود ڈاکٹر زعیم کی بجائے ڈاکٹر رطبہ کو قائم مقام سی ای او کا چارج سونپ دیا ہے۔
دوسری جانب، دوا ساز اداروں نے ملک گیر سطح پر لیووتھائروکسین سوڈیم ٹیبلٹس کے منتخب بیچز اور ڈوزج اسٹرینتھس کی واپسی شروع کر دی ہے۔ یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کی جانب سے کلاس II قرار دیے جانے والے اس انخلا کا مقصد ایسی گولیاں مارکیٹ سے ہٹانا ہے جن میں فعال ہارمون کی مقدار کم پائی گئی ہے، جس سے ان کی طبی افادیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس واپسی میں سات مختلف ڈوزج اسٹرینتھس کے 12 پروڈکٹ لائنز شامل ہیں۔
