لاہور میں اسکوٹی پر سوار ایک لڑکی سے موبائل فون چھیننے کے کیس میں پولیس نے ایک ایسے ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر چونگ کے علاقے میں ہونے والے ایک “مقابلے” کے دوران زخمی ہوا۔ یہ واقعہ اس وقت بڑے پیمانے پر زیرِ بحث آیا جب واردات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور شہر میں خواتین کی سکیورٹی پر نئی بحث چھڑ گئی۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے گرفتار ملزم کی شناخت **عدنان یوسف** کے نام سے کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم تک پہنچنے کے لیے **جیوفینسنگ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ہیومن انٹیلی جنس** کی مدد لی گئی۔ حکام کے مطابق گرفتاری کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور ملزم اپنے ہی ساتھی کی گولی سے زخمی ہوا، جبکہ اس کا ایک ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ بعد ازاں چونگ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔
یہ واقعہ صرف ایک عام اسٹریٹ کرائم کی خبر نہیں رہا۔ ویڈیو میں ایک لڑکی کو دن دہاڑے اسکوٹی پر جاتے ہوئے نشانہ بنایا جاتا دیکھا گیا، اور یہی منظر لوگوں کے غصے کی بڑی وجہ بنا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے نہ صرف پولیس کارکردگی پر سوال اٹھائے بلکہ یہ بھی کہا کہ اگر مصروف سڑکوں پر بھی خواتین محفوظ نہیں تو پھر صورتحال کتنی سنگین ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب **مریم نواز** نے اس معاملے کا نوٹس لیا۔
پولیس اس گرفتاری کو اپنی فوری کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے، لیکن عوامی سطح پر اصل سوال ابھی باقی ہے: کیا ایسے واقعات واقعی کم ہو رہے ہیں یا صرف ہر وائرل ویڈیو کے بعد وقتی ایکشن دکھایا جاتا ہے؟ لاہور میں حالیہ عرصے میں جرائم اور مبینہ پولیس مقابلوں دونوں پر بحث رہی ہے، اس لیے اس کیس کو بھی صرف گرفتاری تک محدود ہو کر نہیں دیکھا جائے گا۔
اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ فرار ہونے والے مبینہ ساتھی کو کب گرفتار کیا جاتا ہے، اور پولیس عدالت میں اپنے دعووں کے حق میں کیا شواہد پیش کرتی ہے۔ یہی مرحلہ طے کرے گا کہ یہ کیس صرف ایک وائرل واردات تھا یا شہری تحفظ کے بڑے مسئلے کی علامت۔
