اسلام آباد — وزیر اعظم شہباز شریف اور یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کاجا کلاس کے درمیان پیر کے روز پی ایم ہاؤس میں اعلیٰ سطح کی ملاقات ہوئی، جس کا مقصد بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹکس کے تناظر میں تزویراتی (اسٹریٹجک) اور اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنا ہے۔
کاجا کلاس، جو یورپی کمیشن کی نائب صدر اور خارجہ امور و سیکیورٹی پالیسی کے لیے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ ہیں، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر پاک-ایو پی اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کی مشترکہ صدارت کے لیے دارالحکومت کا دورہ کر رہی ہیں۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، کلاس نے پاکستان کو ایک بڑی علاقائی طاقت اور ایک اہم اقتصادی اتحادی قرار دیا اور انکشاف کیا کہ یورپی یونین اب بھی پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔
کاجا کلاس کا کہنا تھا کہ "ہماری مارکیٹ دراصل امریکہ اور چین کی مشترکہ مارکیٹ سے بھی بڑی ہے،” انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت دوطرفہ تجارت کا حجم 12 ارب یورو ہے۔
اقتصادی بات چیت کا ایک بڑا محور پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس (GSP+) اسٹیٹس تھا، جس کے تحت پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری یا انتہائی کم ڈیوٹی پر رسائی حاصل ہوتی ہے۔ تاہم، یورپی یونین کی مندوب نے واضح کیا کہ یہ ترجیحی رسائی 27 بین الاقوامی کنونشنز پر سختی سے عمل درآمد سے مشروط ہے۔
کلاس نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "یورپی یونین کی مارکیٹ تک مسلسل ترجیحی رسائی کا انحصار ان بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد میں پیش رفت پر ہے جو اس اسکیم کی بنیاد ہیں،” انہوں نے گڈ گورننس، تحفظِ ماحول، لیبر قوانین اور انسانی حقوق کے معاملات پر "ٹھوس پیش رفت” کا مظاہرہ کرنے پر خاص زور دیا۔
ملاقاتوں کے دوران علاقائی سلامتی پر بھی گہری گفتگو ہوئی، جہاں یورپی یونین نے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی پسِ پردہ (بیک چینل) سفارت کاری کی بھرپور تعریف کی۔ کاجا کلاس نے امریکہ اور ایران کے درمیان "بنیادی ثالث” کے طور پر اسلام آباد کے کردار کو سراہا۔
کلاس نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ "آپ کی سفارتی کوششوں نے کئی مواقع پر مکمل جنگ چھڑنے کے خطرے کو ٹالنے میں مدد کی، اور ان کوششوں کو پورے یورپ میں بڑے پیمانے پر تسلیم اور سراہا جاتا ہے۔” انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان کی ثالثی کی وجہ سے جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور تزویراتی لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے ایک سفارتی راستہ کھلا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ طویل مدتی استحکام کے لیے تہران کے جوہری ذخائر کے حوالے سے مزید گہرے مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔
اس اعلیٰ سطحی ڈائیلاگ میں پاکستان کو درپیش قریبی سیکیورٹی خدشات پر بھی بات چیت کی گئی:
مغربی سرحد پر حالیہ فوجی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے، کلاس نے بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کے اپنے دفاع کے موروثی حق کو تسلیم کیا، لیکن ساتھ ہی انسانی بحران سے بچنے کے لیے دونوں اطراف سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ دوسری جانب، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس بات پر اصرار کیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی اسلام آباد کے لیے قومی سلامتی کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
مزید برآں، وزیر خارجہ ڈار نے یورپی یونین کے وفد کو "بغیر کسی اشتعال کے بھارتی جارحیت” پر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا اور اسلام آباد کے اس اصولی موقف کو دہرایا کہ تنازعہ جموں و کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کلاس کو سندھ طاس معاہدے (Indus Water Treaty) پر پاکستان کے موقف سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے نے رتلے اور کشن گنگا پن بجلی منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی توثیق کی ہے، جو مغربی دریاؤں پر بھارت کے پانی کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے۔
دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کی موجودہ رفتار پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ اس ڈائیلاگ اور نومبر 2025 میں ہونے والے گزشتہ دور کے درمیان محض چھ ماہ کا وقفہ پاک-ایو پی تعلقات کی تاریخ کا مختصر ترین وقفہ ہے، جو بڑھتے ہوئے باہمی اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
روایتی سیکیورٹی اور تجارت سے ہٹ کر، رہنماؤں نے موسمیاتی لچک (کلائمیٹ ریسیلیئنسی)، کلین انرجی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ کلاس نے پاکستان کو مسلسل پانچویں سال یورپی یونین کے عالمی ایراسمس منڈس اسکالرشپ (Erasmus Mundus Scholarship) کی درجہ بندی میں سرفہرست آنے پر مبارکباد دی اور عوامی سطح پر مضبوط روابط کو اجاگر کیا۔
پاکستانی اور یورپی حکام اب ایک نئی "اسٹریٹجک ویژن” دستاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ 2019 کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کی بنیاد پر تیار کردہ یہ مجوزہ فریم ورک پاک-یورپی یونین تعلقات کو مستقل طور پر ایک وسیع، منظم سفارتی اور ادارہ جاتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
