محرم الحرام کے سیکیورٹی انتظامات پر آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن کے شیعہ مکتب فکر کے علماء اور اکابرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، جبکہ ڈی آئی جیز ہیڈکوارٹرز، ٹریننگ اور اے آئی جیز نے بالمشافہ شرکت کی۔
اجلاس میں شرکاء نے آپریشن بنیان المرصوص میں پاک فوج کی جانب سے بھارتی غرور کو خاک میں ملانے پر اظہار تشکر کیا اور ملک کی سلامتی کے لیے دعائیں کیں۔
شرکاء نے متعلقہ اضلاع و ڈویژن میں پولیس کی سیکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس دوران پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ محرم مجالس، جلوسوں اور دیگر اقدامات کے دوران رضاکار متعلقہ پولیس کے ساتھ مل کر امن و امان قائم رکھیں گے۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ ماضی میں محرم الحرام کے دوران شیعہ مکتبہ فکر اور پولیس کے درمیان مثالی تعاون رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سے درخواست ہے کہ کسی بھی شرپسندی کا شکار نہ ہوں اور قانون کو اپنا کام کرنے دیں۔
انہوں نے مزید کہا، "ہم نے ماضی میں دہشت گردی کو شکست دی ہے اور انشاللہ اب بھی دیں گے۔ سندھ پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی ایجنسیاں شب و روز اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر رہی ہیں۔”
آئی جی سندھ نے عالمی منظرنامہ کے پیش نظر زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا اور مشکوک سرگرمیوں کی صورت میں پولیس سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تفرقہ پھیلانے اور امن و امان کی صورت حال کو سبوتاژ کرنے والے عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
آئی جی سندھ نے علماء، ذاکرین اور تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے معززین سے اپیل کی کہ وہ اپنے انفرادی اور اجتماعی کردار سے محرم 2025 کو پرامن اور محفوظ بنائیں۔
