کراچی/میرپورخاص: سندھ پولیس میں منشیات فروشوں اور سماجی جرائم میں ملوث عناصر کی مبینہ سرپرستی کے الزام پر بڑے پیمانے پر محکمانہ کارروائی شروع کردی گئی۔ اطلاعات کے مطابق آئی جی سندھ کے نوٹس کے بعد 50 سے زائد پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف انکوائری کا آغاز ہوا، جن میں میرپورخاص کے 33، تھرپارکر کے 10 اور عمرکوٹ کے 7 اہلکار اور افسران شامل بتائے گئے۔ اس معاملے میں ایک سینئر افسر کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا، جبکہ متعلقہ اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا گیا۔
یہ کارروائی محض رسمی نوعیت کی نہیں سمجھی جا رہی۔ دستیاب معلومات کے مطابق الزامات صرف منشیات فروشوں کی مبینہ سرپرستی تک محدود نہیں بلکہ سہولت کاری، غیرقانونی نیٹ ورکس سے روابط، اور مقامی سطح پر ایسے عناصر کو تحفظ دینے جیسے نکات بھی انکوائری کا حصہ بنے۔ پولیس حکام کی سطح پر یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ جوابات کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا، اور اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو ملوث اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف بھی کیا جا سکتا ہے۔
تاہم معاملے کا ایک اور پہلو بھی سامنے آیا۔ بعد کی اطلاعات میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ انکوائری شروع ہونے کے باوجود فہرست میں شامل متعدد اہلکار بدستور اپنا “سسٹم” چلاتے رہے۔ کہا گیا کہ 53 سے زائد افسران و اہلکاروں کے خلاف تحقیقات ایک علیحدہ افسر کے سپرد تھیں، جبکہ ذرائع کے مطابق فہرست میں شامل 70 فیصد سے زائد افراد نے انکوائری کو سنجیدگی سے نہ لیتے ہوئے اپنا مبینہ نیٹ ورک جاری رکھا۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ معاملہ صرف چند اہلکاروں کی بدعنوانی تک محدود نہیں رہتا بلکہ احتساب کے نظام پر بھی سوال کھڑے کرتا ہے۔
اس تمام پیش رفت کے بعد سندھ پولیس قیادت نے میرپورخاص ڈویژن میں منشیات کے خلاف سخت مؤقف دوبارہ دہرایا۔ 3 اپریل 2026 کو میرپورخاص کے دورے کے دوران سندھ پولیس چیف نے قانون نافذ کرنے والے افسران کو ہدایت دی کہ گٹکا، ماوا اور دیگر منشیات کے خلاف نئی حکمت عملی کے تحت سخت کارروائی کی جائے، اور منشیات کے مقدمات کو مضبوط شہادتوں کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منشیات کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔
یہ خبر محض ایک محکمانہ انکوائری نہیں بلکہ سندھ کے ان اضلاع میں پولیس کے اندر احتساب، مقامی جرائم کے ڈھانچے، اور عوامی اعتماد کے بحران کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ شوکاز نوٹس اور انکوائریاں کہاں تک جاتی ہیں: کیا واقعی برطرفیاں، سزائیں اور مستقل اصلاحات ہوں گی، یا معاملہ وقت کے ساتھ دب جائے گا؟ فی الحال دستیاب معلومات یہی ظاہر کرتی ہیں کہ کارروائی ضرور شروع ہوئی، مگر اس کے مکمل اور حتمی نتائج ابھی واضح طور پر سامنے نہیں آئے۔
