ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں اور آبادکاروں کی جانب سے جنسی نوعیت کی ہراسانی اور تشدد غربِ اردن کے بعض علاقوں میں فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور زمینوں سے نکلنے پر مجبور کرنے والے ماحول کا حصہ بن چکا ہے۔ ویسٹ بینک پروٹیکشن کنسورشیم کی اس رپورٹ کے مطابق یہ واقعات محض الگ تھلگ زیادتیاں نہیں، بلکہ خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کی ایسی فضا پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق محققین نے تین برسوں میں جنسی تشدد سے متعلق 16 واقعات دستاویزی شکل میں جمع کیے، جبکہ اپنی تحقیق کے لیے 83 انٹرویوز پر انحصار کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ اس نوعیت کے جرائم اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ بدنامی کا خوف، سماجی دباؤ، انتقام کا اندیشہ اور انصاف نہ ملنے کا تاثر، یہ سب عوامل متاثرین کو خاموش رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔
رپورٹ میں جن مبینہ واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں ریپ کی دھمکیاں، زبردستی برہنہ کرنا، جسمانی تلاشی کے نام پر توہین آمیز رویہ، جنسی تحقیر، ہراسانی، اور شرمناک جسمانی نمائش جیسے الزامات شامل ہیں۔ بعض واقعات میں کم عمر افراد کے متاثر ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد صرف فوری خوف پھیلانا نہیں، بلکہ کمیونٹیز کو اتنا غیر محفوظ بنا دینا ہے کہ ان کے لیے وہاں رہنا دشوار ہو جائے۔
اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ جنسی نوعیت کے مبینہ تشدد کو جبری نقل مکانی سے جوڑتی ہے۔ بعض خاندانوں نے، رپورٹ کے مطابق، کہا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف دھمکیوں اور ہراسانی نے ان کے لیے علاقہ چھوڑنے کے فیصلے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کے سماجی اثرات بھی شدید بتائے گئے ہیں: لڑکیوں کی تعلیم چھوٹ جانا، خواتین کا روزگار کھو دینا، اور بعض خاندانوں میں کم عمری کی شادیوں میں اضافہ، تاکہ کم از کم گھر کے اندر کسی طرح کا تحفظ محسوس کیا جا سکے۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی ادارے پہلے ہی غربِ اردن میں بڑھتی ہوئی بے دخلی، آبادکاری اور تشدد پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے 17 مارچ 2026 کے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسرائیلی آبادکاری میں توسیع، الحاق کے رجحان، اور سکیورٹی فورسز و آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث 31 اکتوبر 2025 تک کے بارہ ماہ میں 36 ہزار سے زائد فلسطینی غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں بے دخل ہوئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نقل مکانی کا بحران پہلے ہی ایک بڑے انسانی مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
اسی طرح اوچا کی حالیہ انسانی صورتحال رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ شمالی غربِ اردن کے تین پناہ گزین کیمپوں سے جنوری 2025 کے بعد سے 33 ہزار سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ جنوری 2023 سے اب تک آبادکاروں کے حملوں اور رسائی پر پابندیوں کے باعث مزید ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اگرچہ یہ ادارے ہر جگہ جنسی تشدد پر تفصیل سے بات نہیں کرتے، مگر ان کی رپورٹس ایک وسیع تر جبر اور غیر محفوظ ماحول کی تصدیق کرتی ہیں۔
اس رپورٹ میں ایک اور بڑا نکتہ احتساب کے فقدان کا ہے۔ جن ماہرین اور تنظیموں کا حوالہ دیا گیا، ان کے مطابق ایسی شکایات میں شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی احساسِ بے بسی اور عدم تحفظ کمیونٹیز کو مزید کمزور کرتا ہے۔ اگر لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ نہ انہیں تحفظ ملے گا اور نہ انصاف، تو ہجرت اکثر بقا کی حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔
اصل میں اس رپورٹ کی اہمیت یہی ہے۔ یہ صرف چند ہولناک الزامات کی فہرست نہیں، بلکہ اس بڑے سوال کو سامنے لاتی ہے کہ کیا جنسی نوعیت کا تشدد بھی اب ایک ایسے نظام کا حصہ بن چکا ہے جس کے ذریعے فلسطینی آبادی کو کمزور، منتشر اور بالآخر بے دخل کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ محض انفرادی زیادتیوں سے کہیں آگے بڑھ جاتا ہے۔ پھر یہ ایک ایسے منظم دباؤ کی تصویر بن جاتا ہے جس میں زمین خالی کرانے کے لیے خوف کو ہتھیار بنایا جا رہا ہو۔
